ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو : نصابی کتب تنازع : حکومت نہیں کرے گی پی یو سی نصاب پر نظرِ ثانی  

بنگلورو : نصابی کتب تنازع : حکومت نہیں کرے گی پی یو سی نصاب پر نظرِ ثانی  

Wed, 08 Jun 2022 13:11:41    S.O. News Service

بنگلورو، 8؍ جون (ایس او نیوز) نصابی کتب پر نظرِ ثانی کے مسئلہ پر نہ ختم ہونے والے تنازعات سے پریشان ریاستی حکومت نے پری یونیورسٹی نصاب پر نظر ثانی اور ترمیم و تنسیخ کرنے کا ارادہ بدل دیا ہے ۔ 
    
خیال رہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے  پی یو سی نصاب پر نظرِ ثانی کرنے کا کام روہیت چکراتیرتھا  کی اسی کمیٹی کو سونپا گیا جس کی طرف سے اسکولی نصاب کے اسباق میں کی گئی ترمیم و تنسیخ اور اضافہ کی وجہ سے احتجاجات اور اعتراضات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ اور اس میں روز ایک نیا موڑ آ رہا ہے ۔ اس صورت حال سے  پریشان ریاستی حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم بی سی ناگیش نے کہا : " اب ہم پی یو سی کی نصابی کتب پر نظر ثانی نہیں کر رہے ہیں ۔"
    
حالانکہ محکمہ تعلیم کے پری یونیورسٹی شعبہ سے ملی متعبر اطلاعات کے مطابق پی یو سی کے لئے نصاب کا نظرِ ثانی شدہ مواد تیار ہے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام اور کانگریس پارٹی کی طرف سے ترمیم شدہ نصاب کی خامیاں اجاگر کرنے اور مخالفانہ محاذ سخت کرنے کے بعد ریاستی حکومت اب اس مسئلہ پر یو ٹرن لینے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ اسی پس منظر میں وزیر تعلیم نے کہا : " چونکہ روہیت چکراتیرتھا کی قیادت میں بنی کمیٹی تحلیل کر دی گئی ہے اس لئے نصابی کتب پر نظرِ ثانی نہیں ہوگی اور سابقہ کتابیں ہی جاری رہیں گی ۔ " 
    
یاد رہے کہ پی یو سی سال دوم  کے لئے فی الحال پڑھائی جا رہی  تاریخ کی کتاب کے  باب 4.2 میں شامل کچھ تبصروں پر اکھل بھارت برہمن سبھا نے اعتراضات جتائے تھے اور کہا تھا کہ اس سے برہمنوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔ بی سی ناگیش سے قبل وزیر تعلیم کا قلمدان رکھنے والے سریش کمار نے معترض طبقہ کو اس مسئلہ پر غور کا تیقن دیا تھا ۔ پھر بی سی ناگیش نے بطور وزیر تعلیم نے امسال 17 فروری کو ابتدائی و ثانوی تعلیم کے پرنسپال سیکریٹری کے نام ایک نوٹ بھیجتے ہوئے کہا تھا کہ پی یو سی کی کتابوں پر نظرِ ثانی کا کام روہیت چکراتیرتھا کمیٹی کو سونپا جائے ۔
    
وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد وزیر تعلیم ناگیش نے کہا نئی کتابوں پر تازہ نظرِ ثانی عوام کی طرف سے ملنے والے فیڈ بیک پر مبنی ہوگی ۔ اس مقصد کے لئے حکومت کی طرف سے سابقہ اور موجودہ نظر ثانی اور ترمیمات کے تینوں مسودات پبلک ڈومین پر اپلوڈ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ "عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ کس نے کیا اضافہ کیا اور کیا حذف کیا ۔  اگر کوئی غلطی سامنے آتی ہے تو عوام اپنے اعتراضات کرناٹکا ٹیکسٹ بک سوسائٹی کے پاس درج کروا سکتے ہیں ۔"


Share: